Monday, June 21, 2021

شہیدہ زینب کمائی

زینب کمائی کی ڈائیری
(یہ تحریر۴۱سال کی عمر میں انہوں نے لکھی تھی )
  اس (ذات باری)کے نام سے جس سے میرا وجود ہے ،جس کی طرف جانا ہے ،میری زندگی اس کی خاطر ہے ۔میں نے اسی کی طرف جانا ہے ،میں اسے حس کرتی ہوں ،اپنے وجود کے ذرے ذرے میں اس کا احساس ہے لیکن بیان نہیں کیا جاسکتا ۔
  خدایا ! جب میںاس عمر تک پہنچ چکی ہوں ۔ابھی مجھے علم ہوا ہے کہ یہ فانی دنیا کتنی کم   قیمت ہے ۔اب مجھے سمجھ آتی ہے شہداءکس طرح عاشقانہ تجھ سے ملاقات کے لیے دوڑتے ہیں ۔خدایا!مجھے بھی اپنی آرزو تک پہنچا دے اور شہادت مجھ تک پہنچا دے ۔

 شہیدہ زینب کمائی کی وصیت
   خدایا منافقت اور غیرجانبداری کا نقاب ہمارے چہروں پر پڑنے نہ دیں اور اِس وقت جنگ میں حسین کو تنہا نہ چھوڑیں۔ یہ دشمن یزید سے بھی بدتر ہیں۔
   *اس نے کا کیا پایا جس نے آپ کو کھویا اور اس شخص نے کیا کھویا جس نے آپ کو پایا؟ (امام حسینؑ
 کی دعاو ¿ں کا ایک حصہ)
   میں آپ شہدا سے محبت کرنے والوں سے کہتی ہوں کہ ان شہداءکا راستہ اپنے خون سے جاری رکھیں۔ امام کی تائید سے کبھی دور نہ ہوجائیں۔ ہمیشہ قائد اعظم کے کلام کو سنیں اور ان کا اطلاق کریں۔ کیونکہ سب ایک دن خدا کی طرف لوٹ آئیں گے۔
   ہمیشہ موت کو یاد رکھیں تاکہ غرور اور دوسرے گناہ آپ پر حاوی نہ ہوں۔ اپنی دعاو ¿ں کو فراموش نہ کریں اور ہمیشہ امام کی صحت کے لئے دعا کریں اور مہدی علیہ السلام کی آمد کا انتظار کریں۔
   میری پیاری ماں ، جو پیدائش سے ہی ہمیشہ سے میری نرس اور سوگوار رہی ہیں ، اب جب آپ میری وصیت کو پڑھ رہی ہو ، خوش رہنا کہ آپ نے خدا کا امتحان فخر کے ساتھ پاس کیا ہے اور میری غیر موجودگی میں کبھی غمگین نہیں ہونا۔ کیونکہ میں اپنے خدا کے حضورمیں زندہ ہوں۔
   ماں جان ، میں جانتی ہوں کہ آپ نے مجھے اپنی زندگی کے اس مرحلے تک پہنچانے کے لئے بہت محنت کی ہے ، اور اسی وجہ سے ، میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی تکلیف کی قسم کھاتی ہوں ، مجھے ہمیشہ حلال کرنا اور میرے لئے دعا کرنا۔
 

No comments:

Post a Comment

Please do not enter any spam link an the Comment box

حدیث طیرمشوی

  بسم الله الرحمن الرحیم حدیث طیرمشوی           این حدیث متواتر است این از اون روایات است ک ه اسلاف ما برای این حدیث خون ه ا دادن تا ...